حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجۃ الاسلام والمسلمین مطہری اصل نے بدھ کے روز ٹی وی پروگرام ’’آفتاب شرقی‘‘ میں انسانی زندگی میں استقامت کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انسان کی ترقی اور کمال مشکلات اور رکاوٹوں کا سامنا کرنے، انہیں دور کرنے اور ثابت قدم رہنے سے حاصل ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ استقامت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹیں انسان کے اندر موجود ہوتی ہیں۔ اگر انسان اندر سے مضبوط ہو اور اپنے ایمان و روحانی قوت کو مستحکم کرے تو بیرونی مشکلات کا مقابلہ بھی آسانی سے کر سکتا ہے، لیکن جو شخص اندر سے کمزور ہو، وہ بیرونی دباؤ کے سامنے بھی ثابت قدم نہیں رہ سکتا۔
امام جمعہ تبریز نے قرآن کریم کی آیات کی روشنی میں کہا کہ انسان کے اندر نیکی کی طرف میلان کے ساتھ شیطانی وسوسے بھی موجود ہیں۔ انسان مادی اور روحانی دونوں پہلو رکھتا ہے، اسی لیے اس کے اندر مختلف خواہشات اور کشمکش پائی جاتی ہے۔ قرآن نے مال، اولاد، جنسی خواہشات اور دنیاوی آسائشوں کی محبت کو انسان کے لیے آزمائش قرار دیا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ انسان کو دنیاوی نعمتوں سے ضرورت کے مطابق فائدہ اٹھانا چاہیے، لیکن ان کا غلام نہیں بننا چاہیے۔ زکات، خمس، انفاق، احسان اور قرضِ حسنہ جیسے مالی احکام بھی انسان کو مال کی غیرضروری محبت سے آزاد کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
حجۃ الاسلام مطہری اصل نے کہا کہ اگر انسان اپنے نفس پر قابو پا لے تو وہ ظلم سے بھی محفوظ رہ سکتا ہے اور معاشرے میں عدل و انصاف کے قیام میں کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا: ’’اگر آپ دشمن کی خاردار تاروں سے گزرنا چاہتے ہیں تو پہلے اپنے نفس کی خاردار تاروں سے گزرنا ہوگا۔‘‘
انہوں نے بیرونی دشمنوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسلام کے دشمنوں کا مقابلہ استقامت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ اگر انسان کمزوری کا مظاہرہ کرے تو دشمن مزید آگے بڑھنے کی کوشش کرے گا۔
نمائندہ ولی فقیہ آذربائیجان شرقی نے کہا کہ ایرانی عوام نے گزشتہ برسوں کے تجربات سے دیکھا ہے کہ جب امریکہ، عالمی استکبار اور صہیونی قوتوں کے مقابلے میں استقامت کا مظاہرہ کیا گیا تو ہی بعض حقوق حاصل ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ شہادتوں کے بعد ایرانی عوام اپنے حقوق کے حصول اور شہداء کے خون کا بدلہ لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور اس مقصد کے حصول تک آرام سے نہیں بیٹھیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی عوام اپنے ملک، دین، مکتب اور نظام سے محبت کرتے ہیں اور عالمی استکبار کے مقابلے میں ایک قدم بھی پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔









آپ کا تبصرہ